Tuesday, March 5, 2013

Nida Fazli


یہ دل کٹیا ہے ستو کی یہاں راجہ بھكاري کیا

وہ ہر دیدار میں ذردار ہے گوٹہ كناري کیا

یہ کاٹے سے نہیں کٹتے یہ بانٹے سے نہیں بٹتے
ندی کے پانيو کے سامنے اري كٹاري کیا

اسی کے چلنے - پھرنے، ہنسنے - رونے کی ہیں تصاویر
کم کیا، چاند کیا، موسیقی کیا، بعد - اے - بہاری کیا

کسی گھر کے کسی بجھتے ہوئے چولہے میں تلاش اس کو
جو چوٹی اور داڑھی میں رہے وہ دينداري کیا

ہمارا میر جی سے متتفق ہونا ہے ناممکن
اٹھانا ہے جو پتھر عشق کی تو ہلکا - بھاری کیا

No comments:

Post a Comment